جبر و قدر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - [ کلام ]  انسان کے قادر یا مجبور ہونے کا مسئلہ جو علما علم کلام و عقائد کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے۔ "اشاعر و معتزلہ میں مسئلہ جبر و قدر سنگ تفرقہ انداز میں رہا ہے"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ١٥٧ )

اشتقاق

دو عربی اسما کے درمیان حرف عطف 'و' لگنے سے مرکب عطفی 'جبر و قدر' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٣٠ء میں "تقویۃ الایمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ کلام ]  انسان کے قادر یا مجبور ہونے کا مسئلہ جو علما علم کلام و عقائد کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے۔ "اشاعر و معتزلہ میں مسئلہ جبر و قدر سنگ تفرقہ انداز میں رہا ہے"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ١٥٧ )

جنس: مذکر